📰 جب خبر لطیفہ بن جائے — میڈیا، جھوٹ اور عقل کا امتحان
تحریر: کہانیاں تلاش کریں
ذرا تصور کریں…
جب خبر سن کر انسان چونکنے کے بجائے مسکرانے لگے،
جب بریکنگ نیوز دیکھ کر دل کہے:
"یہ اطلاع ہے… یا اسٹیج ڈراما؟"
تو سمجھ لیجیے مسئلہ سچ کا نہیں،
بلکہ جھوٹ کے معیار کا ہے۔
دنیا کے ہر معاشرے میں میڈیا کو سچ کی آنکھ سمجھا جاتا ہے،
لیکن جب خبر عقل سے خالی ہو جائے،
تو وہ معلومات نہیں بلکہ تماشا بن جاتی ہے۔
ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا۔
لوگ کہتے تھے:
"یہ آدمی جھوٹ بولتا ہے،
مگر ایسا کہ سننے والا سوچ میں پڑ جائے۔"
وقت گزرا، اس کا بیٹا جوان ہوا۔
اس نے بھی اپنی قابلیت دکھانے کی ٹھانی۔
گاؤں کی بیٹھک میں آ کر بولا:
"میں شکار پر گیا،
میں نے ہرن دیکھا،
تیر چلایا،
اور تیر اس کے کان سے داخل ہو کر
پاؤں سے نکل گیا!"
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد قہقہے گونج اٹھے۔
لوگ بولے:
"کان کہاں… اور پاؤں کہاں؟"
بیٹا شرمندہ ہو کر واپس لوٹ گیا۔
باپ نے ساری بات سنی، مسکرایا اور کہا:
"بیٹا…
جھوٹ بھی اگر بولو
تو عقل کے دروازے بند نہ کرو۔"
وہ دونوں دوبارہ بیٹھک میں گئے۔
لوگوں نے شکایت کی۔
باپ نے سکون سے کہا:
"میں خود موجود تھا،
جب تیر چلا،
تب ہرن
اپنے کان میں خارش کر رہا تھا۔"
بیٹھک خاموش ہو گئی…
کیونکہ اب بات ممکن لگنے لگی تھی۔
اب ذرا اس کہانی کو آج کے میڈیا پر رکھ کر دیکھتے ہیں۔
تصور کریں ایک گاؤں میں ایک گدھا ہے 🫏
مالک روز آ کر کہتا ہے:
"آج تم گھوڑے بن گئے ہو!"
گدھا خوش ہو جاتا ہے،
حالانکہ نہ ٹانگیں بدلیں،
نہ آواز،
نہ رفتار۔
اگلے دن کہا جاتا ہے:
"کل تم نے ریس جیت لی تھی!"
گدھا خوشی میں رینکنے لگتا ہے،
حالانکہ ریس ہوئی ہی نہیں۔
بالکل اسی انداز میں،
کچھ چینلز اپنی اسکرین پر چیخ،
نیچے سرخ پٹی،
غصے میں اینکر،
اور پیچھے فرضی گرافکس دکھا کر
ناظر کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ:
❗ لیکن جب حقائق چیک کیے جائیں،
جب مقامات دیکھے جائیں،
جب آزاد ذرائع کو دیکھا جائے،
تو سوال اٹھتا ہے:
"جہاں دعویٰ کیا جا رہا ہے،
وہاں کچھ تھا ہی نہیں!"
یہ سب مل کر خبر کو معلومات نہیں،
بلکہ تاثر بنا دیتے ہیں۔
اور تاثر، سچ نہیں ہوتا۔
یہ پوری کہانی ہمیں ایک ہی بات سکھاتی ہے:
جھوٹ جتنا بڑا ہو،
اتنی ہی جلدی پکڑا جاتا ہے۔
جب خبر میں عقل نہ ہو،
تو پروپیگنڈا خود اپنے وزن سے گر جاتا ہے۔
آج کا ناظر نہ اندھا ہے،
نہ بے خبر،
اور نہ ہی ہر چیخ کو حقیقت ماننے پر مجبور۔
سچ چیختا نہیں،
شور نہیں مچاتا،
سرخ پٹی نہیں مانگتا۔
سچ خاموش ہوتا ہے…
مگر دیرپا۔
اگر یہ تحریر
آپ کو مسکراتے ہوئے سوچنے پر مجبور کر گئی،
تو سمجھ لیجیے مقصد پورا ہو گیا۔
کیونکہ یہاں
ہم گدھے نہیں بناتے…
آئینہ دکھاتے ہیں۔
0 Comments